پاکستانی خلا باز دھڑکتے دل کے ساتھ اپنی خلائی شٹل سے باہر نکلا , ایک لمحے کے لئے اس نے سطح چاند کو دیکھا اور سوچا کہ انسان عظیم ہے خدایا …. جو زمین سے ہر رشتہ توڑ کر خلاؤں میں آوارہ گردی کرتے کرتے کائنات کی سب سے حسین شے تک جا پہنچا ہے_
.
وہ اپنی قسمت پر ناز کر رہا تھا اور دل ہی دل میں خدا کے حضور اظہار تشکر کر رہا تھا کہ خدا نے اسے اس پہلے انسان کا رتبہ دیا جو چاند پر قدم رکھے اور دنیا کو اس کے بارے میں اگاہ کرے_
.
خلا باز مسرت و شادمانی کے ساتھ سطح چاند پر اترا اور پھر کئی دنوں تک وہاں کی آب و ہوا اور سطح کی مٹی پر تجربات کرتا رہا اور آخر کار کئی ہفتوں کی عرق ریزی کے بعد اس کے تجربات مکمل ہو گئے تو اس نے اخذ کردہ نتائج زمین پر موجود کنٹرول روم کو سنانے کے لئے خوشی خوشی رابطہ کیا کیونکہ یہ تجربات جدید سائنس میں ہنگامہ برپا کرنے جا رہے تھے_
زمین پر کنٹرول روم کے ساتھ مواصلاتی رابطے کے ساتھ اپنا ناطہ جوڑا تو خوشی اس کی آواز سے چھلک رہی تھی
”سر ہم کامیاب ہو گئے ہمارے تجربات کامیاب رہے”
 
”گڈ ایجنٹ ہم کو تم سے یہی امید تھی”چیف کنٹرولر داد دینے کے انداز میں بولا
”مشن کے بارے میں کیا پیشرفت ہوئی ”
 
خلا باز کی آنکھوں میں ایک چمک تھی ”سر اب تک کی ریسرچ کے بعد یہ سامنے آیا ہے کہ چاند پر نہ پینے کو پانی ہے, نہ گیس ہے , نہ آکسیجن ہے”
 
ابھی بات یہیں تک پہنچی تھی کہ چیف کنٹرولر اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا ”کیا کہا دوبارہ بولو وہاں پر نہ پینے کو پانی ہے, نہ گیس ہے , نہ آکسیجن ہے” چیف کنٹرولر کی آواز میں مسرت تھی
 
”جی ہاں سر میں پورے وثوق سے کہ رہا ہوں کہ یہاں پر نہ پینے کو پانی ہے, نہ گیس ہے , نہ آکسیجن ہے, یہاں زندگی کے کوئی اثار نہیں ہیں, ہر طرف تاریکی ہی تاریکی چھائی ہوئی ہے”

.

 

یہ سن کر چیف کنٹرولر کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں مقیم خلائی سینٹر کا سارا عملہ ناچنے
لگا
 
”اچھا یہ بتاؤ کیا وہاں پر آٹا گھی چینی جیسی اجناس موجود ہیں? ”
 
”نہیں سر یہاں ایسی کسی چیز کا وجود نہیں ہے”


خلا باز پریشان تھا کہ اچانک یہ کنٹرول روم میں کیا ہلڑ بازی شروع ہو گئی ہے. اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے ریسرچ سینٹر میں شادیانے بجائے جا رہے ہوں, یا پھر کوئی ڈھول کی تھاپ پر رقص کر رہاتھا, اسے ٹیلی فون کی دوسری جانب سے نسوانی قہقوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں

 

 
”ہیلو ہیلو کوئی مجھے سن رہا ہے” وہ ہزیانی انداز میں چیخ رہا تھا
.
”ہاں ہاں ایجنٹ میں تم کو سن رہا ہوں, ہمارا مشن مکمل ہو گیا ہے, تم فورن واپس چلے آؤ ” چیف کنٹرولر خوشی سے بولا

”مگر سر ہوا کیا ہے”
 
”ارے پاگل اس ریسرچ مشن سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ چاند پر بھی میاں صاب کی حکومت ہے کیونکہ وہاں پر بھی نہ پینے کو پانی ہے, نہ بجلی, نہ گیس, نہ زندگی گزارنے کے کوئی اثار, بس ہر طرف شیر ہی شیر ہے ” اور اس کے ساتھ ہی چیف کنٹرولر نے ایک فلک شگاف نعرہ لگایا
”بس شیررررررررررررررررررر”

.

 

اور اس کے ساتھ ہی زمین سے رابطہ منقطع ہو گیا اور بیچارہ خلا باز یہ سوچنے لگا کہ شاید پاکستانی کے قدموں کی برکت
ہی ایسی ہے کہ وہ جہاں جاتا ہے وہیں ”بس شیرررررر” کی حکومت ہوتی ہے_




Pakistan on Moon

پہلے پاکستانی کا چاند پر قدم اور نئے انکشافات

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>